8 اپریل، 2026، 10:08 AM

ایران اور امریکہ کے درمیان 14 روزہ جنگ بندی کا اعلان، عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آگئے

ایران اور امریکہ کے درمیان 14 روزہ جنگ بندی کا اعلان، عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آگئے

پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد امریکی سیاست دانوں اور علاقائی ممالک کی جانب سے متضاد بیانات اور تبصرے سامنے آئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے 39 دن بعد ایران اور امریکہ کے درمیان 14 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے جس پر مختلف ممالک اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ردِعمل سامنے آرہا ہے۔

یہ جنگ بندی پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں طے پائی، جس کے تحت دونوں ممالک نے دو ہفتوں کے لیے فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی سینیٹر کرس مرفی نے سی این این سے گفتگو میں کہا کہ اگر ایران کے بیان کا کچھ حصہ بھی درست مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال حیران کن ہے کہ ٹرمپ کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں بظاہر ایران کو ایک اہم آبی گزرگاہ پر وہ کنٹرول مل گیا ہے جو جنگ سے پہلے اس کے پاس نہیں تھا۔

فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، مصر

دوسری جانب مصر کی وزارت خارجہ نے خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں کی معطلی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے کشیدگی میں کمی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔

اس گزرگاہ کو کھولا جائے گا جو جنگ سے پہلے کھلی تھی، رکن کانگریس

ادھر امریکی کانگریس کے رکن جِم مک گورن نے طنزیہ انداز میں ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب ایسا معاہدہ کیا گیا ہے جس کے تحت ایک ایسی آبنائے کو دوبارہ کھولا جائے گا جو جنگ سے پہلے بھی کھلی ہوئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ گویا ٹرمپ ایران پر بمباری روک دیں گے تاکہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے، حالانکہ یہ گزرگاہ ایران پر بمباری شروع ہونے سے پہلے ہی کھلی ہوئی تھی۔

ٹرمپ اپنے کیے پر پشیمان ہیں، ڈیموکریٹ رہنما

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چیک شومر نے بھی جنگ بندی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ٹرمپ آخرکار پیچھے ہٹ گئے اور اب وہ اپنے پیدا کردہ بحران سے نکلنے کے لیے کسی نہ کسی راستے کی تلاش میں ہیں۔

ایران آبنائے ہرمز پر فیس وصول کرے گا، اے پی

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے جنگ بندی پر تبصرہ کرتے ہوئے رپورٹ کیا کہ دو ہفتوں کے جنگ بندی منصوبے کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اس رقم کو جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے استعمال کرے گا، جبکہ عمان اس رقم کو کس مقصد کے لیے استعمال کرے گا، اس بارے میں ابھی واضح نہیں کیا گیا۔

امریکہ کو اسٹریٹجک ناکامی ہوئی، برطانوی صحافی

معروف برطانوی صحافی اوون جونز نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل ایران کا دس نکاتی منصوبہ ہے جسے ٹرمپ نے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کیا ہے۔ اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ یہ امریکہ کے لیے اس وقت سے اب تک کی سب سے بڑی اسٹریٹجک ناکامی ہے جب سے وہ ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔

آخر امریکہ کو اس جنگ سے کیا حاصل ہوا؟ ریپبلکن میڈیا

اسی طرح ایک معروف ریپبلکن سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے بھی ٹرمپ کی ایران کے ساتھ جنگ بندی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکہ کو اس جنگ سے کیا حاصل ہوا؟ ایران کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم موجود ہے، اس کے زیادہ تر بیلسٹک میزائل بھی برقرار ہیں، ایران کی حکومت بھی اپنی جگہ قائم ہے اور اب اس نے یہ بھی دکھا دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کر سکتا ہے، جو اس سے پہلے نہیں تھا۔

ٹرمپ خالی ہاتھ واپس آئے، سابق امریکی عہدیدار

امریکہ کے سابق وفاقی پراسیکیوٹر رون فلیپکوفسکی نے بھی اس معاہدے پر طنزیہ ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف ایران میں کوئی نظامی تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں میں عائد کی گئی پابندیاں بھی ختم کر دی جائیں گی۔ ایران اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیت برقرار رکھے گا، آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ رکھے گا، جہازوں سے فیس وصول کرے گا اور اپنے افزودہ یورینیم کو بھی محفوظ رکھے گا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہی وہ “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کا نتیجہ ہے جس کی بات کی جا رہی تھی۔

بے مقصد جنگ ختم ہوگئی، رکن کانگریس

امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری نے بھی جنگ بندی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اب تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ اس پوری جنگ کا مقصد کیا تھا۔ یہ جنگ بندی دراصل ٹرمپ کے احمقانہ فیصلوں کے ایک اور چکر کا حصہ ہے۔ وہ پہلے ایک بحران پیدا کرتے ہیں، پھر امریکی عوام کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس بحران کو حل کر دیا ہے، اور پھر دوبارہ اسی راستے پر واپس آجاتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہوا۔

امریکہ کی تاریخ کی سب سے بڑی تذلیل ہوئی، سابق رکن کانگریس

امریکی کانگریس کے سابق رکن اور ریٹائرڈ فوجی کرنل ایڈم کنزنگر نے کہا کہ اگر واقعی آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہرجانے کی ادائیگی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے تو یہ امریکہ کی تاریخ کی سب سے بڑی تذلیل ہوگی۔

امریکی جنگ طلب سینیٹر کی بھی عقل ٹھکانے آگئی

اسرائیل کے مضبوط حامی سمجھے جانے والے امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم نے کہا کہ وہ اصولی طور پر سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، بشرطیکہ اس کا نتیجہ ایران کے نظام کے حوالے سے درست ہو۔ وہ اس مسئلے کے سفارتی حل کی کوشش کرنے والوں کی محنت کو سراہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ابتدائی مرحلے میں وہ اس معاہدے کی حقیقت یا ممکنہ تحریف کے بارے میں محتاط ہیں۔ کانگریس کی باقاعدہ جانچ پڑتال کا عمل، جیسا کہ ایران اور اوباما حکومت کے معاہدے کے وقت سینیٹ نے کیا تھا، آگے بڑھنے کا ایک مناسب طریقہ ہوسکتا ہے تاکہ تمام سوالات کا واضح جواب مل سکے۔

امریکہ کی عالمی حیثیت کو نقصان پہنچا، سابق اعلی عہدیدار

امریکہ کے سابق نائب قومی سلامتی مشیر بن روڈز نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ نے ایک ایسی آبنائے کو دوبارہ کھلوانے کے لیے معاہدہ کیا جو ان کی شروع کی ہوئی بے معنی جنگ سے پہلے ہی کھلی ہوئی تھی۔ اس دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول کرلیا اور ممکن ہے کہ پابندیاں ختم ہونے کے ساتھ ساتھ مالی فائدہ بھی حاصل کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ میں امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے، مشرق وسطیٰ میں امریکی سفارت خانے اور فوجی اڈے شدید متاثر ہوئے اور نتیجتاً دنیا میں امریکہ کی حیثیت کو نقصان پہنچا۔

ٹرمپ نے وہی آبنائے دوبارہ کھولی جو پہلے سے کھلی تھی، سابق امریکی سفارت کار

امریکہ کے سابق سفارت کار اور ٹائم میگزین کے تجزیہ کار ریچرڈ اسٹینگل نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو غالب امکان ہے کہ ٹرمپ ایران سے وہ ضمانتیں بھی حاصل نہ کرسکیں جو اوباما حکومت کو ملی تھیں۔ ایران کا جوہری پروگرام تقریباً وہیں کھڑا ہے جہاں جنگ کے آغاز میں تھا، اور حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے صرف اسی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوایا ہے جو ان کے حملے سے پہلے ہی کھلی ہوئی تھی۔

ایران اس سے پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگیا، سابق امریکی ترجمان

امریکہ کے سابق وزارت خارجہ کے ترجمان نڈ پرائس نے کہا کہ بظاہر جنگ ایسے وقت ختم ہو رہی ہے جب ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کررہا ہے، جبکہ ایران کے تیل پر عائد امریکی پابندیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ صورتحال ایک نئے معمول میں تبدیل ہو گئی تو اس کا مطلب ہوگا کہ امریکہ نے بے پناہ خون، دولت اور ساکھ خرچ کر کے آخرکار ایران کو کئی اہم اسٹریٹجک پہلوؤں میں پہلے سے زیادہ مضبوط بنا دیا ہے۔

ٹرمپ کا مواخذہ ہونا چاہیے، امریکی رکن کانگریس

امریکی ڈیموکریٹ رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ ہونا چاہیے کیونکہ اب دنیا یا اپنے قومی مفادات کو مزید خطرے میں ڈالنے کی گنجائش نہیں رہی۔

ٹرمپ کو ایران کی شرائط ماننا پڑیں، اسرائیلی تجزیہ کار

اسرائیلی تجزیہ کار آلون مزراحی نے لکھا کہ ٹرمپ کو ایران کی شرائط قبول کرنا پڑیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پورے معاملے میں ایران ہر دن کے ساتھ برتری حاصل کرتا جا رہا تھا۔

کوششوں کی حمایت کرتے ہیں،عراقی وزارت خارجہ

عراق کی وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ خطے اور عالمی سطح پر ہر اس کوشش کی حمایت کرتی ہے جو بحران کو کم کرنے اور مذاکرات و سفارت کاری کو فروغ دینے میں مدد دے۔ وزارت نے جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

جنگ بندی کی کامیابی کے لیے اسرائیلی اقدامات کو روکنا ہوگا، جو کینٹ

ٹرمپ دور حکومت میں انسداد دہشت گردی سروس کی سربراہی سے مستعفی ہونے والے جو کینٹ نے کہا کہ اگر جنگ بندی کو کامیاب بنانا ہے تو سب سے پہلے اسرائیل کے اقدامات کو قابو میں لانا ضروری ہوگا۔

News ID 1938796

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha